صحبت گلزار میں مست خوشبو کیا ہے
صاحب، آپ کیا جانیں آرزو کیا ہے

طفلگی کی معصوميت تھی يا ايّام شباب
من ہی من رواں پر لطف گفتگو کيا ہے

ہر آن تمنّا ہے مسلسل وصال يار کی
يہ بے چينی ہر لمحہ ہر سو کيا ہے

اک خيال پھر بيان اور اظہارقلب
صآبر ترے الفاظوں کی آخر جستجو کيا ہے