عجب کہانی ہے مومنِ مبتلا کی

کبھی آئی ہے کیا اس رو سدا آہ کی؟

تجھے غرور ہے کس قیام شب کا

عیب پوشی جو کی رب نے ترے گناہ کی

جس کا انجام ہے مخرّب و منہدم

ہائے تجھے تمنا ہے اس جگہ کی

وصلِ صفوفِ مرد و زن کہ کہۓ بندگی؟

عریاں ہوئ جو آبرو ریزی حیا کی

ہے أجرِ صبر بِغَيرِ حساب جان لیجيے

کیا خوب طلب پائی صآبر جنتِ بقا کی