بندگی میں کیوں کر آرام نہ آئے

تمنائے بہشت سر انجام نہ آئے

روش خالص کی ہے جستجو حماقت

پیکر حیات میں جب تک اسلام نہ آئے

اک طرف ہے امتزاج خاک و جبین

اک طرف توحید تمام نہ آئے

صدائے حق ہے حجت روز محشر کو

کم سے کم تجھ پر الزام نہ آئے

تیرے رب کی ہو جس میں معصیت

وہ اطاعت تیرے کام نہ آئے

بزم فانی کی سرخوشی میں آئی یہ صدا

کہیں محشر میں صآبر بدنام نہ آئے