دیدہ دل سے دیکھا تو دھوکے کھائے

ہستی کیا ہستی ہے کہ بس جیتے جائے

اپنی آبرو خاک میں ملائے وہ کیونکر

جس ختان کے ہم موطن ضعف چھپائے

تخریب خزاں میں ہم ثبات قلب پا گئے

ہم کو کیا معلوم تھا بہار آئے نہ آئے

نادان سمجھ بیٹھے کہ بے کس ہے صآبر

جو زہد و انابت سے اپنا سر جھکائے